✨ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا — مکمل تشریح
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کا غذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
از مرزا غالب
مشکل الفاظ کے معنی
نقش: تصور خاکہ
فریادی: شکایت کرنے والا
شوخی: تحریر لکھنے والے کی شوخی یا قدرت
پیرہن: لباس
پیکر تصویر: تصویر کی صورت

آسان تشریح
غالب کہتے ہیں کہ دینا کی ہر تصویر ہر وجود اور ہر شکل دراصل کسی لکھنے والے کی تحریر کا نتیجہ ہے۔ ہر نقش گویا اپنے خالق سے سوال کر رہا ہے کہ مجحے اس انداز میں کیوں بنایا گیا؟
وہ مذید کہتے ہیں کہ ہر تصویر کا لباس بھی کاغذی ہے۔ یعنی سب کچھ عارضی اور غیر حقیقی ہے۔
یہ دنیا ایک تصویر کی طرح ہے جس کی حقیقت صرف ظاہری ہے ۔ اصل حقیقت کہیں اور ہے۔
فکری پہلو
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ
ہماری زندگی ایک تحریر کی طرح ہے
ہم سب ایک بڑی کہانی کا حصہ ہی
دنیا کی حقیقت شاید اتنی مضبوط نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں
شاید زندگی صرف ایک تحریر ہے اور ہم اس کا کاغذی لباس
یہ تحریر بھی پڑھیں
Ishq Ne Ghalib Nikamma Kar Diya – عشق نے غالب نکما کر دیا | Ghalib Love Poetry in Urdu & English