کب یاروں کو تسلیم نہیں کب کوی عدوانکاری ہے
کب یاروں کو تسلیم نہیں کب کوی عدوانکاری ہے
اس کوے طکب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جان واری ہے
جب ساز سلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ ریت ابھی تک باقی ہے یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کچھ اہل ستم کچھ اہل چشم مے خانہ گراے آے تھے
دہلز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا یہ یہ پتھر بھاری ہے
جب پرچم جاں لے کر نکلے ہم خال نشیں مقتل مقتل
اس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے
زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انھیں معلوم نہ تھا
کہ خاک وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے

you must read this post also