لمحاتِ وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے – پروین شاکر کی خوبصورت غزل

اگر آپ اردو کی بہترین شاعری تلاش کر رہے ہیں، تو یہ Parveen Shakir Ghazal (پروین شاکر کی غزل) آپ کے دل کو چھو لے گی۔ لمحاتِ وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے، ان کا ایک لازوال شاہکار ہے

اردو ادب کی نامور شاعرہ پروین شاکر اپنی شاعری میں نسائی لہجے اور لطیف احساسات کے لیے جانی جاتی ہیں ۔ اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی پسندیدہ شاعرہ ہیں۔ ان کی یہ غزل انسانی جذبات، جدای اور  یادوں کا ایک بہترین شاہکار ہے۔ اگر آپ اردو شاعری کے مداح ہیں ، تو یہ کلام یقنا آپ کے دل کو چھو لے گا۔

Parveen Shakir Ghazal: Analysis and Meaning

پروین شاکر کی اس غزل میں انسانی جذبوں کی بہت خوبصورت عکاسی کی گی ہے۔ اس غزل کا مرکزی خیال وصل اور جدائی کے گرد گھومتا ہے شاعرہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھی انسان  خوشی کے لمحوں میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اسے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گیے

وہ ہاتھ  بڑھ نہ پاے کہ گھونگھٹ سمٹ گیے

خوشبو تو سانس لینے کو ٹھہری تھی راہ میں

ہم بدگمان ایسے کہ گھر کو پلٹ گیے

ملنا —– دوبارہ ملنے کا وعدہ —- جدا یاں

اتنے بہت سے کام اچانگ نمٹ گیے

رویئ  ہوں آج کھل کے ‘ بڑی مدتوں کے بعد

بادل جو آسمان پہ چھاے تھے’ وہ چھٹ گیے

کس دھیان سے پرانی کتابیں کھلی تھیں کل

آئی ہوا تو کتنے ورق ہی الٹ گیے

شہرو فا میں دھوپ کا ساتھی کوئی نہیں

سورج سروں پہ آیا تو ساے بھی گھٹ گیے

اتنی جسارتیں تو اسی نصیب تھیں

جھونکے ہواکے’ کیسے گلے سے لپٹ گیے

دست ہوا نے جیسے درانتی سنبھال لی

اب کے سروں کی فصل سے کھلیان  پٹ گیے

Parveen Shakir Famous Urdu Ghazal - Lamhat e Vasal kaise hijaboon mein kat gaye

مذید پڑھیں

[اک حسد دیوار تو ہے اک حصار در تو ہے – پروین شاکر رومانوی شاعری]

خلقت   نہیں ہے ساتھ تو پھر بخت بھی نہیں

One Sided Love Poetry Urdu (Sad & Heart Touching Poetry 2026)

پروین شاکر کی ذندگی اور ان کے مجموعہ کلام کے پارے میں مذید تفصیلات آپ ویکپیڈیا پر دیکھ سکتے ہیں

Leave a Comment