اب تو جاگ مسافر پیارے کلام بلھے شاہ (متن و تشریح) | Apna Adab

اب تو جاگ مسافر پیارے کلام بلھے شاہ (متن و تشریح) | Apna Adab

بابا بلھے شاہ پنجاب کے عظیم صوفی شاعر ہیں ، جن کا کلام روح کو بیدار کرنے اور انسان کو دنیا کی فانی حقیقت یاد دلانے میں بے مثال اثر رکھتا ہے۔ ان کی نظم “اب تو جاگ مسافر پیارے” انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار ہونے اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ دلاتی ہے۔

زیل میں بابا بلھے شاہ کا یہ خوبصورت کلام اور سبق آموز صوفیانہ کلام پیش خدمت ہے

اب تو جاگ مسافر پیارے کلام بلھے شاہ

اب تو جاگ کلام بلھے شاہ

اب تو جاگ مسافر پیارے

رین گئی ، لٹکے سب تارے

آواگون سراہیں ڈیرے

ساتھ تیار مسافر تیرے

اجے نہ سنیوں کوچ نقارے

اب تو جاگ مسافر پیارے

کر لے اج کرنی دا ویرا

مڑ نہ ہو سی آون تیرا

ساتھی چلو چل پکارے

اب تو جاگ مسافر پیارے

موتی ، چونی، پارس ، پاسے

پاس سمندر ، مرو پیاسے

کھول اکھیں ، اٹھ بوہ بیکارے

اب تو جاگ مسافر پیارے

بلھا! شوہ دے پیریں پڑیے

غفلت چھوڑ کچھ حیلہ کریے

مرگ جتن بن کھیت اجاڑے

اب تو جاگ مسافر پیارے

اب تو جاگ مسافر پیارے کلام بلھے شاہ

اب تو جاگ مسافر پیارے مفہوم اور تشریح

پہلا بند:

اب تو جاگ مسافر پیارےرین گئی، لٹکے سب تارےآواگون سراہیں ڈیرےساتھ تیار مسافر تیرےاجے نہ سنیوں کوچ نقارےاب تو جاگ مسافر پیارے

تشریح:اس ابتدائی بند میں بابا بلھے شاہؒ انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کے لیے ایک مسافر اور رات کے ڈھلنے کا استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے انسان! تو اس دنیا میں ایک مسافر ہے اور اب تیرے جاگنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ زندگی کی رات ختم ہو رہی ہے اور ستارے ڈوبنے کے قریب ہیں، یعنی تیری عمر کا بڑا حصہ گزر چکا ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی سرائے کی مانند ہے جہاں روحیں آتی اور جاتی رہتی ہیں (آواگون)۔ تیرے بہت سے ساتھی رخصت ہو چکے ہیں اور باقی بھی جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ اس سے پہلے کہ موت کا نقارہ بج جائے اور مہلت ختم ہو جائے، تجھے اپنے اصل مقصد کو پہچان لینا چاہیے۔


باقی ماندہ اشعار (دوسرے، تیسرے اور چوتھے بند) میں عمل کی تاکید، حقیقی معرفت اور خالق سے لو لگانے کی تلقین کی گئی ہے۔


کلام کا خلاصہ اور مفہوم

اس کلام میں بابا بلھے شاہؒ انسان کو ایک “مسافر” سے تشبیہ دیتے ہیں جو اس دنیا کی عارضی سرائے میں مقیم ہے۔

  • غفلت سے بیداری: رات ڈھل چکی ہے اور ستارے ڈوب رہے ہیں، یعنی زندگی کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
  • عمل کی تاکید: انسان کو چاہیے کہ وہ جیتے جی اچھے اعمال کر لے کیونکہ اس دنیا میں دوبارہ لوٹ کر آنے کا موقع نہیں ملے گا۔
  • حقیقی معرفت: انسان کے پاس روحانی موتی اور معرفت کا سمندر قریب ہونے کے باوجود وہ غفلت کی وجہ سے پیاسا اور محروم ہے۔
  • خالق سے لو لگانا: بلھے شاہؒ نصیحت فرماتے ہیں کہ غفلت کو چھوڑ کر اپنے حقیقی مالک (شوہ) کے قدموں میں گر جانا چاہیے، ورنہ جیسے موت کی غفلت پورے کھیت (زندگی) کو اجاڑ دیتی ہے، انسان کا سرمایہ بھی ضائع ہو جائے گا۔

مزید صوفیانہ کلام کے لیے یہ بھی پڑھیں

رانجھن لے چل اپنے ساتھ Sachal Sarmast ka kalam

حرف حرف حقیقت — واصف علی واصف کے صوفیانہ کلام کا تیسرا مجموعہ

Leave a Comment