تیرے میرے خواب: امجد اسلام امجد کی نظم کی تشریح

تیرے میرے خواب، امجد اسلام امجد کی نظم کی تشریح، مجموعہ بارش کی آواز

کتاب کے بارے میں

“بارش کی آواز” کے بارے میں

“بارش کی آواز” امجد اسلام امجد کا شعری مجموعہ ہے جس میں نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔ ان کے کلام میں محبت، انسانی رشتوں کی نازک کیفیات اور وقت کا احساس نمایاں ہے۔ سادہ زبان اور تصویری اظہار ان کی شاعری کی پہچان ہے۔ “تیرے میرے خواب” اسی مجموعے کی ایک اثر انگیز نظم ہے۔

امجد اسلام امجد جدید اردو شاعری کے ان شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے نظم کو سادہ اور خوبصورت زبان میں گہرا مفہوم دیا۔ ان کے مجموعے “بارش کی آواز” میں شامل نظم “تیرے میرے خواب” اسی انداز کی ایک بہترین مثال ہے، جس میں خواب کسی ایک شخص کی ذاتی خواہش نہیں رہتے بلکہ پورے انسانی دکھ کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ یہ نظم سادہ اردو میں لکھی گئی ہے، مگر اس کا اثر بہت گہرا ہے۔

تعارفِ نظم

نظم کئی بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند ایک الگ منظر پیش کرتا ہے۔ آخر میں ایک ہی ٹیپ کا مصرع بار بار لوٹتا ہے، جو پوری نظم کو ایک دعا یا خواہش کی شکل دے دیتا ہے۔

پہلا بند

آسمان کے چاند اور تارے

تیرے میرے خواب نہ ہوں

یہ جو فرش خاک پہ بکھرا ریزہ ریزہ آئینہ ہے

اس میں جتنے عکس ہیں، سارے

تیرے میرے خواب نہ ہوں

تشریح

شاعر اس بند میں دو طرح کے خوابوں کا ذکر کرتا ہے اور ہر بار ایک ہی دعا کرتا ہے کہ یہ ہمارے خواب نہ ہوں۔

پہلی تصویر، آسمان کے چاند تارے:یہ خوبصورت مگر پہنچ سے باہر خواب ہیں، جو دور سے چمکتے ہیں مگر ہاتھ نہیں آتے۔ شاعر کی خواہش ہے کہ ہمارے خواب ایسے ناقابلِ حصول نہ ہوں۔

دوسری تصویر، زمین پر بکھرا ہوا آئینہ:آئینہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکا ہے اور ہر ٹکڑے میں ایک عکس ہے۔ یہ ٹوٹے اور بکھرے ہوئے خوابوں کی علامت ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ ہمارے خوابوں کا انجام یہ شکستگی نہ ہو۔

ٹیپ کا مصرع: “تیرے میرے خواب نہ ہوں” یہاں ایک دعا یا آرزو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے خواب نہ بلندی پر پہنچ سے دور رہیں اور نہ زمین پر گر کر بکھر جائیں۔

خلاصہ:پہلا بند خواب کے دو انجام سامنے رکھتا ہے، ایک دوری اور ایک ٹوٹ پھوٹ، اور دونوں سے پناہ مانگتا ہے۔

آسمان کے چاند اور تارے

دوسرا بند

دیر رہیں جو آنکھوں میں تو خواب پرندے بن جاتے ہیں

لاکھ انھیں آزاد کرو یہ پھر کر واپس آ جاتے ہیں

یہ جو قفس کے دروازے میں پر پھیلائے بیٹھے ہیں

یہ درماندہ، اوگن ہارے

تیرے میرے خواب نہ ہوں

تشریح

اس بند میں شاعر خوابوں کو پرندوں سے تشبیہ دیتا ہے، اور یہاں خواب کا ایک اور دکھ سامنے آتا ہے: عادت اور محکومی۔

پہلی تصویر، آنکھوں میں رہنے والے پرندے:جو خواب دیر تک آنکھوں میں بسے رہیں، وہ پرندوں کی طرح پلنے لگتے ہیں اور ان کا اپنا ایک گھر بن جاتا ہے۔

دوسری تصویر، آزاد کرنے پر بھی واپس آ جانا:لاکھ کوشش کرو کہ انھیں اڑا دو، وہ لوٹ آتے ہیں۔ یہ اس انسان کی کیفیت ہے جو پرانی امیدوں اور پرانے خوابوں سے رہائی نہیں پا سکتا، یا جسے قید کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ آزادی بھی اجنبی لگتی ہے۔

تیسری تصویر، قفس کے دروازے پر پر پھیلائے پرندے:دروازہ کھلا ہے، پر بھی موجود ہیں، مگر اڑان کی ہمت نہیں۔ “درماندہ” کا مطلب تھکا ہارا اور عاجز ہے، اور “اوگن ہارے” میں اپنی ہی کمزوریوں سے ہارے ہوئے ہونے کا مفہوم ہے۔

ٹیپ کا مصرع:یہاں دعا یہ ہے کہ ہمارے خواب ایسے مجبور، تھکے ہارے اور قید کے عادی نہ ہوں۔

خلاصہ:پہلے بند میں خواب دور یا ٹوٹے ہوئے تھے، دوسرے بند میں وہ زندہ تو ہیں مگر اپنی ہی قید میں بے بس ہیں۔

تیسرا بند

پلکوں کی دہلیز سے لگ کر دیکھ رہے ہیں رستوں کو

مٹتی بنتی شکلوں کو اور جلتے بجھتے رنگوں کو

بوجھل چپ اور اوجھل دکھ کے سائے سائے بیٹھے ہیں

یہ بے چہرہ اور بے چارے

تیرے میرے خواب نہ ہوں

تشریح

اس بند میں خواب آنکھوں کی دہلیز پر بیٹھے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے بند میں قید تھی، یہاں انتظار اور بے شناخت ہو جانے کا دکھ ہے۔

پہلی تصویر، پلکوں کی دہلیز سے لگ کر رستوں کو تکنا:خواب آنکھ کے دروازے پر بیٹھے راہ دیکھ رہے ہیں۔ انتظار ہے مگر کسی کے آنے کی کوئی یقین دہانی نہیں۔

دوسری تصویر، مٹتی بنتی شکلیں اور جلتے بجھتے رنگ:جو منظر سامنے ہیں وہ مستقل نہیں۔ شکلیں بنتی ہیں تو مٹ جاتی ہیں اور رنگ چمکتے ہیں تو بجھ جاتے ہیں۔ یہ امید اور ناامیدی کے بیچ ڈولتی کیفیت ہے جس میں کچھ بھی ٹھہرتا نہیں۔

تیسری تصویر، بوجھل چپ اور اوجھل دکھ کے سائے:خاموشی بھاری ہے اور دکھ نظر نہیں آتا مگر سائے کی طرح ساتھ لگا ہے۔ یہ وہ دکھ ہے جو بیان نہیں ہو پاتا۔

“بے چہرہ اور بے چارے”:جن خوابوں کی کوئی واضح صورت نہ رہے اور جو بے سہارا ہو جائیں، وہ بے چہرہ ہیں۔ یہاں خواب شناخت اور سہارا دونوں کھو بیٹھتے ہیں۔

ٹیپ کا مصرع:دعا یہ ہے کہ ہمارے خواب اس طرح بے شکل، بے سہارا اور انتظار میں گھلتے ہوئے نہ ہوں۔

خلاصہ:تیسرا بند خواب کو انتظار کی کیفیت میں دکھاتا ہے جہاں نہ منزل ہے نہ شکل، صرف دھندلے رنگ اور خاموش دکھ۔

چوتھا بند

بحر فنا میں مل جانے تک ملنے سے مجبور بھی ہیں

اک دوجے کے ساتھ بھی ہیں اور اک دوجے سے دور بھی ہیں

لمحوں کے گرداب سفر میں جو چکرائے بیٹھے ہیں

یہ دونوں — دریا کے کنارے

تیرے میرے خواب نہ ہوں

تشریح

آخری بند میں خواب دریا کے دو کناروں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہ نظم کا سب سے گہرا اور اداس بند ہے۔

پہلی تصویر، بحرِ فنا: “بحرِ فنا” سے مراد موت یا فنا کا سمندر ہے۔ جب تک زندگی کا دریا اس سمندر میں نہ جا گرے، یعنی جب تک زندگی ختم نہ ہو، دونوں کنارے ملنے سے مجبور ہیں۔ یہ مصرع تھوڑا مبہم ہے اور اسے یوں بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ ملاپ صرف فنا میں ممکن ہے۔

دوسری تصویر، ساتھ بھی اور دور بھی:دونوں کنارے ہمیشہ ایک دوسرے کے برابر چلتے ہیں مگر کبھی ملتے نہیں۔ یہ قربت میں چھپی دوری ہے، جیسے دو لوگ ایک ہی راستے کے مسافر ہوں مگر ایک دوسرے تک پہنچ نہ سکیں۔

تیسری تصویر، لمحوں کے گرداب میں چکرانا:وقت کے بہاؤ میں گرداب بن جاتے ہیں اور دونوں اسی چکر میں پھنسے ہیں۔ آگے بڑھنا ہے مگر لمحے انھیں گھماتے رہتے ہیں۔

“یہ دونوں، دریا کے کنارے”:یہاں شاعر خوابوں کو سیدھا دریا کے کناروں سے تشبیہ دیتا ہے۔ دو خواب، یا تیرے اور میرے خواب، ساتھ رہ کر بھی کبھی مل نہ پائیں۔

ٹیپ کا مصرع:آخری دعا یہی ہے کہ ہمارے خواب ایسے نہ ہوں جو ساتھ رہ کر بھی کبھی نہ مل سکیں۔

خلاصہ:چوتھا بند خوابوں کے سفر کو ایک بڑی علامت میں سمیٹ دیتا ہے۔ فاصلہ فنا تک برقرار رہتا ہے، اس لیے شاعر کی دعا اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔

Leave a Comment