ساغر صدیقی — وہ شاعر جو فٹ پاتھ پر سویا اور فٹ پاتھ پر ہی جہانِ فانی سے رخصت ہو

تعارف

Saghar Siddiqi poet of pain — لاہور کی سڑکوں پر بسنے والے شاعر کی مکمل کہانی۔

Saghar Siddiqi poet of pain - biography

اردو شاعری کی تاریخ میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو شاعری سے بھی زیادہ المناک ہیں — ساغر صدیقی کی کہانی انہی میں سے ایک ہے۔ “درد کے شاعر” کے نام سے مشہور ساغر صدیقی نے فلمی صنعت کے لیے شاہکار گیت لکھے، مشاعروں میں لوگوں کے دل جیتے، مگر اپنی زندگی کے آخری برس لاہور کی سڑکوں پر بے گھر، منشیات کے عادی، اور فٹ پاتھ پر سوتے ہوئے گزارے۔

اے دل بے قرار چپ ہو جا

جا چکی ہےبہار چپ ہو جا

مختصر تعارف

ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا۔ وہ 14 اگست 1928 کو امبالہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کی واحد اولاد تھے اور ابتدائی زندگی امبالہ اور سہارنپور میں گزاری۔ بچپن ہی سے شاعری کا شوق پیدا ہوا، اور صرف 16 برس کی عمر میں جالندھر، لدھیانہ، اور گورداسپور کے مشاعروں میں شرکت شروع کر دی۔

1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت، جب وہ صرف 19 برس کے تھے، لاہور ہجرت کر آئے۔ اپنے دبلے پتلے وجود، خوبصورت لباس، اور خوش الحان آواز کے ساتھ وہ جلد ہی مشاعروں کی جان بن گئے۔ انہوں نے فلمی صنعت کے لیے بھی گیت لکھے — جن میں مشہورِ زمانہ دما دم مست قلندربھی شامل ہے، جسے نور جہاں نے گایا۔

کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر

آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

زوال کی کہانی

کامیابی کے باوجود ساغر صدیقی کی زندگی میں المیے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے ایک ادبی رسالہ نکالا جو تنقیدی طور پر کامیاب مگر مالی طور پر ناکام رہا، جسے بالآخر بند کرنا پڑا۔ اس ناکامی نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔ دوستوں اور اجنبیوں کے استحصال کا شکار ہو کر وہ مالی طور پر برباد ہوتے چلے گئے، اور آخرکار افیون اور مورفین کی لت میں مبتلا ہو گئے۔

ہوٹلوں سے نکالے جانے کے بعد وہ لاہور کی سڑکوں پر رہنے لگے — سرکلر روڈ، انارکلی بازار، اخبار مارکیٹ، ایبک روڈ، شاہ عالمی، اور داتا دربار کے اردگرد۔ وہ اکثر فٹ پاتھوں پر، موم بتی کی روشنی میں مشاعرے کیا کرتے تھے۔ ان کی بیشتر نظمیں کھو گئیں یا کبھی شائع ہی نہیں ہو سکیں۔

اس دور کی ایک نہایت دل چسپ اور دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ ایک آوارہ کتا ان کا ساتھی بن گیا تھا — جو بھی خوراک انہیں ملتی، وہ اس کے ساتھ بانٹتے، اور وہ کتا ہر رات ان کے ساتھ فٹ پاتھ پر سوتا۔

Saghar Siddiqi famous couplet - faqeeron ka dard shayari

المناک انتقال

19 جولائی 1974 کو، 46 برس کی عمر میں، ساغر صدیقی مال روڈ لاہور کے قریب، الفلاح بلڈنگ کے نزدیک ایک فٹ پاتھ پر مردہ پائے گئے۔ سردی کی شدت میں وہ نیند ہی میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک نہایت دل سوز بات یہ ہے کہ ان کا وفادار کتا بھی ایک سال بعد، اسی جگہ پر انتقال کر گیا جہاں ساغر صدیقی کا انتقال ہوا تھا۔

انہیں میانی صاحب قبرستان، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے بعد از مرگ انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا۔

جس عہد میں لٹ جاے فقیروں کی کمائی

اس عہد کی سلطان سےکوئی بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی کیوں یاد رکھے جاتے ہیں؟

ساغر صدیقی کی شاعری میں درد اور تنہائی کی وہ گہرائی ہے جو شاید ان کی اپنی زندگی کے تجربات سے آئی۔ انہیں ولی شاعراور درد کا شاعرکہا جاتا ہے — یہ القاب اتفاقی نہیں، بلکہ ان کی زندگی اور شاعری دونوں کا سچا عکس ہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظیم تخلیقی صلاحیت اکثر انتہائی نازک اور کمزور دلوں میں پنہاں ہوتی ہے، اور معاشرہ ایسے فنکاروں کا کس طرح خیال رکھتا ہے — یا نہیں رکھتا۔

دیوان ساغرصدیقی


ہم لا رہے ہیں دیوان ساغر صدیقی اس صفھہ پر یہ دیوان اردو ادب کا ایک شاہکار مجموعہ کلام ہے جو نامور اور درویش صفت شاعر ساغر صدیقی کی لازوال غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی کی تلخی،غریب الوطنی، مھبت کی ناکامی اور معاشرے کی بے حسی کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

چند مشہور اشعار

ہم الٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب 
ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں


ساغر کسی کی یاد میں جب اشکبار تھے
کتنے حسین دن تھے جہان خراب میں

کچھ نہیں مدعا فقیروں کا
درد ہے لادوا فقیروں کا
اپنی تنہایوں پہ ہنستے ہیں
کون ہے آشنا فقیروں کا


کتاب کو مذید پڑھنے کے لیے لنک

اختتامیہ

ساغر صدیقی کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جو شاعری سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ ایک ایسا شاعر جس نے لاکھوں دلوں کو اپنی آواز اور الفاظ سے متاثر کیا، مگر خود تنہائی اور بے کسی میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ ان کی یاد ہمیں ہمیشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی رہے گی کہ ہم اپنے فنکاروں اور شاعروں کا کس طرح خیال رکھتے ہیں۔

Saghar Siddiqi poet of pain — ایک ایسی کہانی جو کبھی نہیں بھولے گی۔

**آپ کو یہ بھی پسند آ سکتی ہیں:*

“دو بہنیں، ایک فٹ پاتھ، اور زندگی کی کڑوی سچائی — بانو قدسیہ کی نایاب تحریر ‘فٹ پاتھ کی گھاس’”

ایک دن، ایک محبت، ایک موڑ — بانو قدسیہ کا ناول “ایک دن” ریویو

  نقشِ فریادی: فیض احمد فیض کا پہلا شعری مجموعہ (مکمل تعارف)


Leave a Comment