ایک دن، ایک محبت، ایک موڑ — بانو قدسیہ کا ناول “ایک دن” ریویو

ایک دن، ایک محبت، ایک موڑ — بانو قدسیہ کا ناول "ایک دن" ریویو

“Aik Din novel review — بانو قدسیہ کے ناول “ایک دن” پر ایک تفصیلی جائزہ۔”

اردو ادب میں بانو قدسیہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اگرچہ ان کا ناول “راجہ گدھ” سب سے زیادہ مشہور ہے، لیکن ان کا ایک مختصر مگر دل کو چھو لینے والا ناول “ایک دن” بھی اپنی جگہ ایک شاہکار ہے۔ اس ریویو میں ہم اس ناول کی کہانی، اس کے کرداروں، اور اس کے پیغام پر بات کریں گے۔

Aik Din Novel— مصنف کا تعارف

بانو قدسیہ 28 نومبر ا928 کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہو گیا۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور 1951 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب  میں ایم اے کیا ۔ وہیں ان کی ملاقات مشہور مصنف اشفاق احمد سے ہوئی۔ جن سے بعد میں ان کی شادی ہوئی ۔ یہ جوڑا اردو ادب  کی تاریخ کے سب سے زیادہ فکری اور روحانی طور پر ہم آہنگ جوڑوں میں شمار ہوتا ہے۔

بانو قدسیہ  نے ناول ، افسانے، اور ڈرامے سمیت مختلف اصناف میں لکھا۔ ان کا سب سے مشہور اور یادگار ناول راجہ گدھ ہے۔ جسے جدید اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں گہرا فلسفیانہ اور روحانی رنگ نمایاں ہے۔ حکومت  پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز (1983)، ہلال امتیاز، اور کمال فن ایوارڈ سے نوازا۔ بانو قدسیہ 4 فروری 2017 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔

کہانی کا خلاصہ

“ایک دن” دراصل زرقا اور معظم (مجو میاں) کی ادھوری محبت کی کہانی ہے۔ زرقا افلاطونی (Platonic) محبت پر یقین رکھتی ہے — وہ ہمیشہ اپنے خوابوں کے شہزادے کا تصور دل میں سجائے رکھتی ہے، ایک ایسا محبوب جو دیوتا کی طرح پاکیزہ ہو، دنیاوی خواہشات سے مبرا۔ دوسری طرف معظم اس افلاطونی محبت سے مطمئن نہیں، وہ اپنی محبوبہ کے قریب حقیقی اور جسمانی رشتہ بھی چاہتا ہے۔

جب زرقا کے تصوراتی محبت کا بت ٹوٹتا ہے، تو وہ معظم کو ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑنے کا کہہ دیتی ہے۔ عین اسی لمحے، جب زرقا اور معظم کی محبت کا اختتامی منظر چل رہا ہوتا ہے، لالو گھر میں چوری کرتا ہے اور زرقا کا سارا جہیز لے کر بھاگ جاتا ہے — تاکہ اپنی بہن کی شادی کا خواب پورا کر سکے۔ یہ ایک عجیب ستم ظریفی ہے کہ محبت کی ٹوٹ پھوٹ اور مادی نقصان دونوں ایک ہی وقت میں پیش آتے ہیں۔

کہانی میں ایک ماں کے خوف اور پریشانی کو بھی دکھایا گیا ہے، جو اپنے شوہر (حاجی صاحب) کی بیرون ملک ملازمت کی وجہ سے تنہا اپنی پانچ بیٹیوں کی پرورش کر رہی ہے۔ غلام حبیب، زرقا کا ہاتھ مانگنے کے لیے، ہمیشہ اس کی ماں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

Aik Din novel review

کرداروں پر ایک نظر

افلاطونی محبت کی قائل، جو اپنے محبوب کو ایک آئیڈیل، مافوق الفطرت ہستی کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔زرقا —

زرقا سے محبت کرتا ہے مگر افلاطونی رشتے سے غیر مطمئن، حقیقی اور جسمانی قربت کا خواہاں۔معظم (مجو میاں) —

ایک ضمنی کردار جو کہانی کے عین نازک موڑ پر چوری کرتا ہے، اپنی بہن کی شادی کی خاطر۔لالو —

پانچ بیٹیوں کی اکیلی پرورش کرنے والی، حاجی صاحب (شوہر) کی غیر موجودگی میں فکرمند۔زرقا کی ماں —

زرقا کا رشتہ مانگنے کی کوشش میں، اس کی ماں کو رجھانے کی کوشش کرتا ہے۔غلام حبیب —

بانو قدسیہ نے غربت، محبت، شادی، اور جوانی کی دہلیز جیسے موضوعات کو نہایت سادہ اور minimalist انداز میں پیش کیا ہے۔ کہانی کا پلاٹ اور مکالمے سادہ ضرور ہیں، مگر جذباتی گہرائی میں کمی نہیں۔

ناول کا پیغام

“ایک دن” دراصل افلاطونی اور حقیقی محبت کے درمیان تصادم کا استعارہ ہے۔ یہ ناول ہمیں دکھاتا ہے کہ جب کسی محبوب کو دیوتا بنا کر پوجا جائے، تو حقیقت کی ٹکر لگتے ہی وہ خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ غربت، خاندانی ذمہ داریاں، اور معاشرتی دباؤ کے سائے میں محبت کیسے اپنی اصل شکل کھو دیتی ہے — یہی اس مختصر ناول کا مرکزی خیال ہے۔

کیا آپ کو یہ ناول پڑھنی چاہیے؟

اگر آپ مختصر مگر گہرے ناول پڑھنے کے شوقین ہیں، تو “ایک دن” آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ یہ ناول اگرچہ لمبائی میں مختصر ہے، مگر اپنے پیغام اور جذباتی گہرائی میں کسی بڑے ناول سے کم نہیں۔ بانو قدسیہ کے مداحوں کے لیے یہ ایک لازمی پڑھنی ہے۔

آپ کو یہ بھی پسند آ سکتی ہیں

نقشِ فریادی: فیض احمد فیض کا پہلا شعری مجموعہ

ہند سے یونان تک — محی الدین نواب کا لازوال تاریخی ناول

Leave a Comment