“Footpath Ki Ghaas review — بانو قدسیہ کے بھولے بسرے شاہکار کا ایک تفصیلی جائزہ۔”
—
تعارف
بانو قدسیہ کا نام آتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں صرف “راجہ گدھ” آتا ہے۔ لیکن ان کی ایک اور تحریر ہے جو اپنی گہرائی اور حقیقت پسندی کے باوجود وقت کی گرد میں کہیں دب گئی — “فٹ پاتھ کی گھاس”۔ یہ بارہ افسانوں کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے، جو اپنی سادگی اور معاشرتی حقیقت نگاری کی وجہ سے 1985 میں پی ٹی وی پر ڈرامے کی صورت میں بھی پیش کیا گیا اور 1986 کے پی ٹی وی ایوارڈز میں “بہترین رائٹر” کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
—
مصنف کا تعارف
بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو فیروزپور میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد لاہور منتقل ہوئیں، گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ایم اے کیا، اور وہیں مشہور مصنف اشفاق احمد سے ان کی ملاقات ہوئی جو بعد میں شادی پر منتج ہوئی۔ بانو قدسیہ نے ناول، افسانے، اور ڈرامے سمیت مختلف اصناف میں لکھا اور اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے اعزازات حاصل کیے۔ وہ 4 فروری 2017 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔
—

کہانی کا خلاصہ
“فٹ پاتھ کی گھاس” کی مرکزی کہانی دو بہنوں — کلثوم اور بتول — کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی ماں زبیدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ زبیدہ ایک اسپتال میں نرس کے طور پر کام کرتی ہے اور اکیلے اپنے گھر کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ بتول ایک دفتر میں ملازمت کرتی ہے جبکہ کلثوم اپنے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہے۔
کہانی میں بشیر نامی ایک کردار بھی ہے جو اپنے بیمار بیٹے نعیم کی دیکھ بھال میں لگا رہتا ہے، جو بستر تک محدود ہے۔ ایک اور اہم کردار وجید ہے — ایک بے فکرا انسان جو مقامی دفتر میں کام کرتا ہے۔ ان کرداروں کے آپس میں جڑے تعلقات، ان کی روزمرہ کی جدوجہد، اور معاشرتی دباؤ — یہی اس کہانی کی روح ہے۔
باقی گیارہ افسانے بھی اسی معاشرتی حقیقت نگاری کے انداز میں لکھے گئے ہیں — چٹان پر گھونسلا، سراب، انجانے میں، شکایتیں حکایتیں، کھل سم سم، سانول مور مہاراں، آنکھ مچولی، رات گئے، علی بابا اور قاسم بھائی، اچھے دن کا انتظار، اور یہ جنون نہیں تو کیا ہے — ہر کہانی اپنے اندر ایک الگ معاشرتی پہلو سموئے ہوئے ہے۔
—
کرداروں پر ایک نظر
**کلثوم** — امتحانات کی تیاری میں مصروف، اپنی بہن اور ماں کے ساتھ زندگی گزارتی ایک نوجوان لڑکی۔
**بتول** — دفتر میں کام کرنے والی، خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹاتی ہوئی۔
**زبیدہ** — دونوں بہنوں کی ماں، جو نرس کے طور پر اکیلے گھر چلاتی ہے۔
**بشیر اور نعیم** — ایک باپ اور اس کا بیمار بیٹا، جن کی کہانی بیماری اور ذمہ داری کے موضوع کو اجاگر کرتی ہے۔
**وجید** — ایک بے فکرا کردار جو کہانی میں ہلکے پن کا عنصر لاتا ہے۔
—
ناول کا پیغام
“فٹ پاتھ کی گھاس” دراصل عام متوسط طبقے کی زندگی کی سچی تصویر ہے — وہ زندگی جو نہ کسی محل میں گزرتی ہے نہ کسی افسانوی دنیا میں، بلکہ فٹ پاتھ کی گھاس کی طرح ہر مشکل حالات میں بھی اگنے اور زندہ رہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ بانو قدسیہ نے غربت، ذمہ داری، اور رشتوں کی پیچیدگیوں کو نہایت مہارت سے پیش کیا ہے۔
—
کیا آپ کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے؟
اگر آپ حقیقت پسند، معاشرتی موضوعات پر مبنی افسانے پسند کرتے ہیں، تو “فٹ پاتھ کی گھاس” آپ کے لیے ایک نایاب تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ “راجہ گدھ” جتنی مشہور نہیں، مگر بانو قدسیہ کے قلم کی گہرائی اور معاشرتی بصیرت کو سمجھنے کے لیے اتنی ہی اہم ہے۔
**آپ کو یہ بھی پسند آ سکتی ہیں:**
ایک دن، ایک محبت، ایک موڑ — بانو قدسیہ کا ناول “ایک دن” ریویو