حرف حرف حقیقت — واصف علی واصف کے صوفیانہ کلام کا تیسرا مجموعہ

Harf Harf Haqeeqat sachi baat khud bolti hai quote poster

تعارف

Harf Harf Haqeeqat Wasif Ali Wasif review — انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہوئے ایک کتاب پر نظر پڑی “حرف حرف حقیقت”۔ بس واجبی سی نظر پہلے صفحے پر پڑی، ایک لائن پڑھی: “پیغمبرﷺ کی بات باتوں کی پیغمبر ہوتی ہے۔” یہ لائن پڑھتے ہی دل کو چھو گئی — کتنی سادگی سے مصنف واصف علی واصف نے بیان کر دیا کہ سچی اور گہری بات خود بولتی ہے، اسے چیخنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جناب واصف علی واصف کا انداز بیان اتنا سادہ، دلکش اور صوفیانہ ہے کہ بے اختیار پوری کتاب پڑھنے پر مجبور ہو گیا۔


مصنف کا تعارف

واصف علی واصف (اصل نام ملک محمد واصف) 15 جنوری 1929 کو کھوشاب، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ممتاز پاکستانی مصنف، شاعر، اور صوفی بزرگ تھے، جنہیں “بابا جی حضور” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ انہوں نے پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کیا تھا، مگر ملازمت کے بجائے تدریس کا شعبہ اختیار کیا اور 1958 میں لاہور میں “لاہور کالج فار انگلش” کی بنیاد رکھی۔ ان کی تقریباً 40 کتابیں ہیں، جن میں “شب چراغ”، “کرن کرن سورج”، “دل دریا سمندر”، اور “قطرہ قطرہ قلزم” شامل ہیں۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1993 کو لاہور میں ہوا، اور انہیں میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔


Harf Harf Haqeeqat Wasif Ali Wasif book poster

کتاب کے بارے میں

یہ کتاب واصف علی واصف کے صوفیانہ کلام کا تیسرا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کی طباعت و تزئین کے مراحل مصنف کی زندگی ہی میں مکمل ہو گئے تھے، لیکن ان کی علالت کے باعث طباعتی عمل میں بار بار رکاوٹ پڑتی رہی، اور یہ کتاب مصنف کی زندگی میں طبع نہ ہو سکی۔ کتاب کا نام مصنف نے خود ہی تجویز کر دیا تھا۔ یہ کتاب 1994 میں شائع ہوئی۔

کتاب کی شروعات ہی میں مصنف نے کیا کمال خوبی اور سادہ انداز میں سمجھایا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ آپﷺ کی ذاتِ گرامی اتنی مکمل ہے کہ آپﷺ کے دم سے ہی صفات کی تکمیل ہوئی — صفات کو مرتبہ ملا، صفات کو تقدس ملا، پہچان ملی، عروج ملا۔ غرض یہ کہ کتاب کا ہر باب حکمت و دانائی سے بھرپور ہے۔

چاہے وہ رحمت کا باب ہو جس میں مصنف نے اللہ پاک کی رحمت کو بیان کیا ہے، یا توبہ کا باب ہو — “الٰہی یا الٰہی، اے خاموشی کی زبان سے سننے والے مالک، اے اپنی مخلوق کے ہر حال سے ہمہ حال باخبر رہنے والے مولا، ہم پر رحم فرما!” — یا پھر انسان اور انسان کا باب، جس میں مصنف نے بتایا کہ وہ لوگ جو انسان کو چھوڑ کر یا انسان سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش کرتے ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوتے۔

غرض یہ کہ یہ کتاب اپنے آپ میں ایک سمندر ہے — ایک ایسی کتاب جو رحمت و دانائی سے بھرپور ہے۔


میری رائے

اگر آپ نے اس کتاب کو ابھی تک نہیں پڑھا، تو پہلی فرصت میں اس کتاب کو پڑھیں۔ کتاب کا لنک آپ کو نیچے مل جائے گا۔ اور کمنٹ باکس میں ضرور بتائیں کہ آپ کو یہ کتاب کیسی لگی۔

مکمل کتاب یہاں پڑھیں: ریختہ پر “حرف حرف حقیقت” پڑھیں


آپ کو یہ بھی پسند آ سکتی ہیں:

Leave a Comment