بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے — پروین شاکر کی غزل کا مطلب اور تجزیہ

بھولا نہیں دل عتاب اس کے — پروین شاکر غزل کا مطلب اور تجزیہ

بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے پروین شاکر کہ یہ غزل اردو ادب کا ایک لازوال شاہگار ہے۔ جو محبت، شکوے اور دل کی اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جب انسان اپنے محبوب سے ناراض ہو اور اس کااحسان مند بھی ۔ یعنی کہ محبت اور ناراضگی کا متزاج ۔

اس صفحے پر ہم نے پروین شاکر کی اس خوبصورت غزل کا مکمل متن اور شعر کا آسان اردو میں مطلب اور تجزیہ پہش کیا ہے ۔

پروین شاکر مختصر تعارف

پروین شاکر اردو ادب کی سب سے نمایاں اور محبوب شاعرہ تھیں۔ وہ 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوہیں۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک منفرد اور نسوانی آواز متعارف کروائی جو پہلے کبھی اردو ادب میں نہیں سنی گئی تھی ۔

پروین شاکر بیک وقت شاعرہ ، استاد اور پاکستان کی سول سرونٹ تھیں۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں مییں خوشبو، صدبرگ، خود کلامی اور انکار شامل ہیں۔

شاعرہ کے متعلق سب کچھ جانیے

بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے — پروین شاکر کی مکمل غزل

مکمل غزل بھولا نہیں دل عتاب اس کے

بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے

جتنا ستایا اتنا چاہا میں ہوں عجب انتخاب اس کے>
اس نے جو دیکھا مجھے پہلی بار آنکھ میں تھی شراب اس کے

اب کے بچھڑے تو شاید ملنا ہوگا کہیں خواب اس کے>
سوچتی ہوں کہ اس کو لکھوں کیا لکھوں کیا جواب اس کے

میں بھی ہوں عجب طرح کی دیوانی بھولی نہیں کتاب اس کے



ہر شعر کا مطلب اور تجزیہ

شعر نمبر ۱ — مطلع

> **بھولا نہیں دل عتاب اس کے احسان ہیں بے حساب اس کے**

**مطلب:**
دل نے نہ اس کی ناراضگی بھولی اور نہ اس کے احسانات — دونوں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ “عتاب” یعنی غصہ اور ناراضگی — “احسان” یعنی نعمت اور کرم۔

**تجزیہ:**
یہ غزل کا سب سے خوبصورت شعر ہے — محبت کی وہ کیفیت جہاں شکوہ بھی ہو اور شکرگزاری بھی — پروین شاکر نے اسے بے مثال انداز میں بیان کیا ہے۔



شعر نمبر ۲

**جتنا ستایا اتنا چاہا میں ہوں عجب انتخاب اس کے**

**مطلب:**
جتنا اس نے تکلیف دی اتنی ہی محبت بھی کی — شاعرہ کہتی ہے کہ میں خود بھی عجیب انتخاب ہوں اس کا — کہ ایسی محبت کو قبول کر لیا۔

**تجزیہ:**
یہ شعر محبت کی اس سچائی کو بیان کرتا ہے کہ جو جتنا تکلیف دیتا ہے اسے اتنا ہی یاد کیا جاتا ہے۔



شعر نمبر ۳

**اس نے جو دیکھا مجھے پہلی بار آنکھ میں تھی شراب اس کے**

**مطلب:**
جب پہلی بار اس نے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک نشہ تھا — وہ پہلی نظر جو دل میں اتر گئی۔

**تجزیہ:**
“آنکھ میں شراب” کی تشبیہ پروین شاکر کی منفرد شاعری کی مثال ہے — پہلی نظر کا نشہ جو زندگی بھر نہیں اترتا۔



شعر نمبر ۴

> **اب کے بچھڑے تو شاید ملنا ہوگا کہیں خواب اس کے**

**مطلب:**
اب اگر جدائی ہوئی تو شاید ملاقات صرف خوابوں میں ہی ممکن ہو — یعنی یہ جدائی شاید آخری ہے۔

**تجزیہ:**
یہ غزل کا سب سے دردناک شعر ہے — “خواب میں ملنا” کا استعارہ اس جدائی کی مستقل نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔



شعر نمبر ۵

> **سوچتی ہوں کہ اس کو لکھوں کیا لکھوں کیا جواب اس کے**

**مطلب:**
شاعرہ سوچتی ہے کہ اسے خط لکھے — لیکن کیا لکھے — کیا جواب دے — الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔

**تجزیہ:**
یہ شعر اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جب دل بھرا ہو لیکن الفاظ ختم ہو جائیں — محبت میں خاموشی کا یہی درد ہے۔



شعر نمبر ۶ — مقطع

> **میں بھی ہوں عجب طرح کی دیوانی بھولی نہیں کتاب اس کے**

**مطلب:**
میں بھی عجیب طرح کی دیوانی ہوں — اس کی لکھی ہوئی باتیں، اس کے الفاظ — کچھ بھی نہیں بھولا۔ “کتاب” سے مراد یادیں اور باتیں ہیں۔

**تجزیہ:**
مقطع میں شاعرہ نے اپنی اس دیوانگی کو خود تسلیم کیا ہے — محبت میں انسان سب کچھ یاد رکھتا ہے اور کچھ بھولنا نہیں چاہتا۔



غزل کا مجموعی تجزیہ

**بھولا نہیں دل عتاب اس کے** پروین شاکر کی ان غزلوں میں سے ہے جو محبت کی تمام کیفیات کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے — ناراضگی، احسان مندی، پہلی نظر کا نشہ، جدائی کا خوف اور یادوں کی دیوانگی۔

پروین شاکر کی شاعری میں وہ خاص نسوانی احساس ملتا ہے جو اردو ادب میں پہلے نہیں تھا — انہوں نے عورت کے جذبات کو بے باک اور خوبصورت انداز میں بیان کیا۔

بھولا نہیں دل عتاب اس کے — پروین شاکر کی مکمل غزل

مزید پڑھیں

ادھوری چاہتیں میری ادھوری داستاں میری

1. مزید پروین شاکر کی غزلیں پڑھنے کے لیے پروین شاکر کی دیگر غزلیں ضرور دیکھیں۔

2. احمد فراز کی مشہور شاعری پڑھنے کے لیے احمد فراز شاعری ملاحظہ کریں۔

3. مزید غمگین اردو شاعری پڑھنے کے لیے Sad Urdu Poetry کا یہ مجموعہ دیکھیں۔

Leave a Comment